Wednesday 26 November 2014

مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات کا مختصر تعارف و تذکرہ



مکہ مکرمہ کے تاریخی مقامات کا مختصر تعارف و تذکرہ

سعودی عرب کا شہر مکہ المکرمہ روئے زمین پر موجود مقدس مقامات میں اپنی تقدیس، طہارت اور انسانی روحانی مرکز ہونے کے ناتے جس فقید المثال بلند مرتبےکا حامل ہے، کرہ ارض پر کوئی دوسری جگہ اس کی ہمسری نہیں کر سکتی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں کم و بیش چار ہزار برس قبل جلیل القدر پیغمبر سیدنا ابراہیم خلیل اللہ تشریف لائے اور اس بے آب وگیاہ وادی کو وہ ابدی سر سبزی اور رونق بخشی جو تا قیامت اس کا خاصہ رہے گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آمد کےبعد یہ شہر کرہ ارض کے انسانوں کا ایک لافانی روحانی مرکز قرار پایا جہاں ہر سال پوری دنیا سے لاکھوں لوگ یہاں حج کے لئے حاضر ہو کر اپنی روحانی پیاس بجھاتے ہیں۔ آج جہاں حج کا رکن اعظم وقوف عرفات ادا کیا جا رہا ہے وہیں ہم اس مبارک موقع پر آپ کے سامنے مکہ مکرمہ کے چند تاریخی مقامات کا مختصر تعارف و تذکرہ پیش کریں گے-



مسجد حرام
بیت اﷲ شریف مسجد حرام کے بیچ میں واقع ہے۔مسجد حرام ایک وسیع احاطہ ہے جس میں چاروں طرف سے وسیع دالان ہیں،جو خوبصورت اور مضبوط ستونوں پر قائم ہیں۔ دالان کے بعد ہر طرف سے کھلا ہوا وسیع صحن ہے اس کے بعد طواف کرنے کی جگہ ہے جس کے بیچ میں خانہ کعبہ کی عمارت ہے۔ دالان سے طواف کرنے کی جگہ تک جانے کیلئے تقریباً ساڑھے چھ فٹ چوڑی اور ایک فٹ اونچی پکی گزر گاہیں بنی ہوئی ہیں اور ان راستوں کے بیچ میں جو خالی زمینیں ہیں ان میں کنکریاں بچھی ہیں۔ دالان دو طرح کے ہیں ایک پرانی تعمیر جو صحن سے متصل ہے اور ایک منزلہ ہے۔ دوسری نئی تعمیر جو پرانی تعمیر سے پہلے ہے اور سہ منزلہ ہے اس کا ایک طبقہ زمین دوز ہے۔ دوسرا طبقہ سڑک کے برابر اور تیسرا بالائی منزلہ۔ پرانی اور نئی تعمیر کا مجموعی رقبہ ایک لاکھ بیس ہزار مربع میٹر ہے۔ اب مسجد حرام کے پورے احاطہ میں پانچ لاکھ آدمی بیک وقت نماز پڑھ سکتے ہیں۔ نئی تعمیر میں سات مینار بنائے گئے ہیں۔ ہر مینار کی بلندی 29 میٹر یعنی تقریباً 300 فٹ ہے۔

www.Quran322.blogspot.com
Skype id Ubaid322
Mob +92322-2984599

No comments:

Post a Comment