Thursday 13 November 2014

حجر اسود کیا ہے کہاں سے آیا ہے۔



                                      حجر اسود کیا ہے کہاں سے آیا ہے۔

کعتبہ اللہ کے جنوب مشرقی گوشے کی دیوار میں تقریباً چار فٹ کی بلندی پر ایک قدیم اور مقدس
 ترین آسمانی پتھر نصب ھے جسکےگرد چاندی کا چاکھٹا ھے۔ یہی پتھر حجراسود کہلاتا ھے۔
حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود سیاہ اور کالے رنگ کے لیے بولا جاتا ہے۔ حجر اسود وہ سیاہ پتھر ہے جو کعبہ کے جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازاً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول چکر بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنےجاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
مرکز کعبہ اور کروڑوں فرزند ان اسلام کی عقیدتوں کا محور کعبے کا یہ پتھر صرف مسلمانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ دنیا کے تمام مذاہب کے پیروکار اسے مقدس مانتے ہیں۔ اور اس پتھر کو اللہ کی نشانی قرار دیتے ہیں۔ 
اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ اسلام خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔ تو حضرت جبرائیل علیہ اسلام نے یہ پتھر جنت سے لا کر دیا جسے حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اپنے ہاتھوں سے دیوار کعبہ میں نصب کیا۔ 606ء میں جب رسول اللہ ﷺ کی عمر35 سال تھی ، سیلاب نے کعبے کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کی لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقام پر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب کر دیا۔ 
دور جاہلیت میں ایک بار کعبے کو خشبو کی دھونی دی گئی تو غلاف کعبہ کو آگ لگ گئی جس سے حجراسود بھی جھلس گیا 64ھ میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور اموی فوج سے لڑائی میں ایک بار پھر خوفناک آگ سے حجراسود کے تین ٹکڑے ھوگئے۔ عبداللہ بن زبیر نے چاندی کے موٹے خول میں ان ٹکڑوں کو محفوظ کر کے خانہ کعبہ کی دیوار میں لگا دیا۔ 180ھ میں خلیفہ ہارون الرشید نے حجراسود کے ان ٹکڑوں میں سوراخ کروا کر چاندی سے مربوط کر دیا۔317 ھ میں مکہ پر قرامطہ قابض ھوگئے انہوں نے حرم میں خون بہایا بہت سے حجاج شہیدان کا مقصد میزاب رحمت[سونے کا پرنالہ] مقام ابراہیم اور حجراسود کو چوری کرنا تھا ۔ ابو طاہر کے حکم سے جعفر بن معمار نے14 ذی الحج 317 ھ کو کدال مار کر حجراسود کو اکھاڑ لیا اور بحرین لے گیا۔ تقریباً 22 سال تک رکن اسود پر جگہ خالی رہی اور حجاج صرف خالی جگہ کو ہاتھ لگا کر بوسہ کرتے تھے۔
بالاآخر10 ذی الحج 339 ھ کو بحرین سے سبز بن کرامطی حجراسود کو واپس لایا۔ اور دوبارہ خانہ کعبہ کی زینت بنایا 368 ھ میں ایک رومی نے حجراسود کو چرانے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ 414 ھ میں ایک عجمی نے کدال سے حجراسود پر حملہ کردیا1315 ھ میں ایک افغانی نے حجراسود کا کچھ حصہ توڑ لیا۔ اب یہ 30 سینٹی میڑ کا غیر منظم چمکدار سرخی مائل رنگ کا بیضوی پتھر ھے۔ جو چاندی کے مضبوط بیضوی حلقے ھے۔ اگرچہ زمانے کے بدلتے رنگوں میں طاغوتی و شیطانی قوتوں نے اللہ کی نشانی کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی لیکن 
بقول شاعر۔۔۔فانوس بن کر جسکی حفاظت خدا کرے ۔۔۔
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
احادیث میں ذکر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :
بلاشبہ حجر اسود اورمقام ابراھیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہيں اللہ تعالٰی نے ان کے نوراورروشنی کوختم کردیا ہے اگراللہ تعالٰی اس روشنی کوختم نہ کرتا تو مشرق ومغرب کا درمیانی حصہ روشن ہوجاتا ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 804 ) ۔ 1 - حجراسود اللہ تعالٰی نے زمین پرجنت سے اتارا ہے ۔
ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( حجراسود جنت سے نازل ہوا ) ۔
سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 ) سنن نسائ حدیث نمبر ( 2935 ) 
2 - حجراسود دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا جسے اولاد آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیا ہے :
ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے ) ۔
سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 ) مسنداحمد حدیث نمبر ( 2792 )
حجر اسود کا استلام یہ ہے کہ اسے ہاتھ سے چھوا جاۓ ۔
3- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کا بوسہ لیا اورامت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اسے چومتی ہے ۔
حضرت عمر رضي اللہ تعالٰی عنہ حجراسود کے پاس تشریف لاۓ اوراسے بوسہ دے کرکہنے لگے : مجھے یہ علم ہے کہ توایک پتھر ہے نہ تونفع دے سکتا اورنہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے ، اگرمیں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوۓ نہ دیکھا ہوتا تومیں بھی تجھے نہ چومتا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1250 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1720 ) ۔
ب - ابوطفیل رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اورحجر اسود کا چھڑی کے ساتھ استلام کرکے چھڑی کوچومتے تھے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1275 )
4 - اگر استلام سے بھی عاجز ہو تو اشارہ کرے اور اللہ اکبرکہے :
ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پرطواف کیا توجب بھی حجر اسود کے پاس آتے تواشارہ کرتے اوراللہ اکبر کہتے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4987 ) ۔
8 - حجراسود کوچھونا گناہوں کا کفارہ ہے :
ابن عمررضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 959 ) امام ترمذی نے اسے حسن اورامام حاکم نے ( 1 / 664 ) صحیح قرار دیا اور امام ذھبی نے اس کی موافقت کی ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو حج اور عمرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اس مقدس پتھر کا بوسہ لینا اور چومنا نصیب فرمائے آمین

                                                            آن لائن قرآن اینڈ بیسک اسلامک سنٹر
                                                         Skype id Ubaid322 Mob+92-322-2984599

2 comments:

  1. Learn the Holy Quran Online from the comfort of your home. Our qualifed instructors offers one on one classes. learn quran online, Learning the Quran

    ReplyDelete
  2. معرفت کی آخری منزلیں ۔
    قرآن پاک کی آیتوں میں الله تعالئی کی ایک ایسی واضح نشانی پوشیدہ ھے کہ اگرپہچان کرسمجھ گئے تو تم ایمان
    والے ھوجاؤگے۔ اور اگر ایمان والے ھوگئے توتمہارے تمام اعمال صحیح ھوجائیں گے۔ اس نشانی کی شچائی کی دلیل یہ
    ​-​ھے
    کہ اگر ایک بار دیکھ لی تو پھر مانو یا نہ مانو قبر تک تمہارے ساتھ جائے گی۔

    تحریروخطاب
    حسن محمود‎
    03028636272 SKYPE; mkt.mox

    ReplyDelete