Tuesday, 29 August 2017

عالم اسلام میں قربانی کے اعدادوشمار , غریب کے فوائد ۱ور کچھ نابغے


عالم اسلام میں قربانی کے اعدادوشمار , غریب کے فوائد ۱ور کچھ نابغے
انڈونیشیا: 1کروڑ 8لاکھ 40 ہزار
پاکستان: 1کروڑ 26 لاکھ
بنگلہ دیش: 80لاکھ72ہزار
مصر: 62لاکھ23ہزار
ترکی: 48لاکھ 20ہزار
ایران: 21لاکھ
مراکش: 8لاکھ40ہزار
عراق: 4لاکھ72ہزار
الجیریا: 4لاکھ12ہزار
سوڈان: 2لاکھ54ہزار
سعودی عرب: 1کروڑ50لاکھ30ہزار بوجہ حج
افغانستان: 2لاکھ10ہزار
ازبکستان: 1لاکھ60ہزار
شام: 1لاکھ
کویت: 98ہزار
ملائیشیا: 95ہزار
تونیسیا: 87ہزار
یمن: 80ہزار
بھارت: 1کروڑ سے زائد مسلمان
فلسطین.لیبیا.اردن.جبوتی.موریطانیہ.گیمبیا.تاجکستان.آذربائیجان.ترکمانستان .قازیقستان.کرغرستان.قطر.بحرین.عمان.اور متحدہ عرب امارات میں بھی لوگ قربانی کرتے ہیں.
مجموعی طور پر ساری دنیا میں عید الاضحی کے مبارک موقع پر تقریباً 25 کروڑ سے زیادہ جانورسنت ابراہیمی کو عمل میں لاتے ہوئے ذبح کئے جاتے ہیں.
ان کروڑوں جانوروں کو پالنے والے اکثر غریب ومفلوک الحال لوگ ہوتے ہیں جو کئی سالوں تک اپنے مال مویشی پالتے ہیں ان کی دیکھ بال کرتے ہیں ان کوپال پوس کر مویشی منڈی میں لاتے ہیں اور بڑے لوگوں کی میں میں تو تو سن کر بیچ دیتے ہیں.
اس موقع پر investment Multiplierکے معاشی نظرئے کے مطابق کروڑوں لوگوں کی جیب سے پیسہ نکلتا ہے جس سے ملکی معیشت کا پہیہ تیزی سے گھومنے لگتاہے. ملک کی فارمنگ انڈسٹری.کیٹل انڈسٹری.لیدرانڈسٹری ودیگر چھوٹی موٹی انڈسٹریز حرکت میں آتی ہیں اور ملکی خزانے کو اربوں کا فائدہ پہنچتا ہے.
ایک جانور کو غریب ومتوسط طبقے کا فرد پالتا ہے. منڈی تک گاڑی میں پہنچانے والا بھی عام سا غریب محنت کار ہوتا ہے. مویشی منڈی میں سارا کاروبار اور دھندا عام غریب آدمی سرانجام دیتا ہے. جانور سے متعلق تمام لوازمات اور اشیائے ضروریہ غریب ہی مہیا کرتا ہے.ٹینٹ لگانے شامیانہ کے کیل ٹھونکنے والا بھی غریب.
آگے بڑھئے اور پڑھتے جائیے کہ جانور کو ایک عام غریب قصائی ذبح کرتا ہے اس کی کھال کو لینے والا بھی غریب اس کھال کو مارکیٹ تک پہنچانے والا بھی غریب. اسے صاف کرنے اور دباغت دینے والا بھی عام آدمی. جانوروں کےفضلہ جات کو ٹھکانے لگانے والا بھی غریب ہوتا ہے.
جب جانور ذبح ہوتا ہے تو ہر قربانی کرنے والا اپنی قربانی کے 3 حصے کرتا ہے جس میں غریب رشتہ داروں. یتیموں اور بیواؤں کا حصہ الگ کر کے ان تک پہنچایا جاتا ہے.
اس سارے پراسیس میں غریب کو سب زیادہ فائدہ پہنچتا ہے اور ساتھ ساتھ ملکی معیشت کو بھی.
مگر آج کے دور میں کچھ ایسے نابغے بھی ہیں جنہیں اس مبارک اور عظیم موقع پر غریب ونادار لوگوں کی اچانک یاد ستانے لگتی ہے تو کہتے ہیں کہ سارے عالم سلام کو قربانی پر خرچ کرنے کی بجائے اس رقم کو عطیات پر خرچ کرنا چاہئے تاکہ غریبوں کا بھلا ہو. آپ ہی بتائیے کہ یہ غریب کون ہے؟

Thursday, 24 August 2017

قربانی کے احکام و مسائل



ثبوت قربانی:
القرآن : فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر۔ (سورۃ الکوثر:2)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا نما زپڑھئے اپنے رب کے لئے اور قربانی کیجئے.
القرآن: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلنا مَنسَكًا لِيَذكُرُوا اسمَ اللَّهِ عَلىٰ ما رَزَقَهُم مِن بَهيمَةِ الأَنعٰمِ۔ (سورۃ الحج:34)
ترجمہ: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کردی تاکہ اللہ نے جو چوپائے انہیں دیے ہیں ان پر اللہ کا نام لیا کریں۔
القرآن:’’اور ہم نے ہر ایک اُمت کیلئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کر دیا ہے تاکہ جو مویشی اللہ نے اُن کو دئیے ہیں (اُن کے ذبح کرنے کے وقت) اُن پر اللہ کا نام لیں،پس تمہارا معبود ایک ہی ہے ،اُسی کے فرمانبردار رہو اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دو۔یہ وہ لوگ ہیں کہ جب اللہ کا نام لیا جاتا ہے تو اُن کے دل ڈر جاتے ہیں اور (جب) ان پر مصیبت پڑتی ہے تو صبر کرتے ہیں اور نماز (اہتمام اورپابندی سے) پڑھتے ہیں اور جو (مال) ہم نے ان کو عطا کیا ہے اُس میں سے (نیک کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔ قربانی کے اونٹوں کو بھی ہم نے تمہارے لئے اللہ کے شعائر مقرر کیا ہے، اس میں تمہارے لئے فائدے ہیں تو (قربانی کرنے کے وقت) قطار باندھ کر اُن پر اللہ کا نام لو۔پھر جب وہ پہلو کے بل گر پڑیں تو اُن میں سے کھاؤ اور قناعت سے بیٹھ رہنے والوں اور سوال کرنے والوں کو بھی کھلاؤ۔اس طرح ہم نے اُن جانوروںکو تمہارے تابع کر دیا ہے تاکہ تم شکر کرو۔اللہ تک نہ اُن کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون بلکہ اُس تک تمہاری پرہیزگاری پہنچتی ہے۔ اسی طرح اللہ نے اُن کو تمہارے ماتحت کر دیا ہے تاکہ اس بات کے بدلے کہ اُس نے تمہیں ہدایت بخشی ہے۔ اُ س کی بڑائی بیان کرو اور (اے پیغمبر!) نیکوکاروں کو خوشخبری سنا دیجیے۔‘‘(سورۃ الحج ،آیات ۳۴تا۳۷)
قربانی کے ضروری مسائل
مسئلہ: قربانی ہر اس مسلمان ( مرد ہو یا عورت) پر واجب ہے جو عاقل، بالغ ، مقیم اور صاحب نصاب ہو ،صاحب نصاب سے مراد وہ ثخص ہے جو ساڑھے سات تولہ (87.479 گرام) سونا یا ساڑھے باون تولہ (612.35 گرام) چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت نقد کی شکل میں جو آج کی مارکیٹ میں آٹھ سو روپے پر تولہ ہے اس حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت 42000روپے ہوئی یا اس کے برابر سامان تجارت کا مالک ہو ، یہ سونا ، چاندی، نقد روپیہ اور سامان تجارت کھانے پینے کا سامان ، استعمال کے کپڑے ، سواری ، رہائش کا مکان، صنعتی آلات، مشینین اور دیگر ضروریات کے علاوہ ہو ۔مسئلہ: قربانی کے نصاب پر سال کا گزرنا ضروری نہیں ، بلکہ قربانی کے دنوں میں جس وقت بھی نصاب ملک میں آجائے تو قربانی واجب ہو گی ۔مسئلہ: نابالغ اور پاگل پر قربانی واجب نہیں، اسی طرح وہ مسافر جو سوا ستتر کلو میر (77.248512) کی مسافت کے ارادہ سے سفر میں ہے اس پر قربانی واجب نہیں۔ مسئلہ: قربانی کے دنوں میں اگر مکہ مکرمہ میں حاجی مقیم اور صاحب نصاب ہو تو اس پر بھی عیدالاضحی کی قربانی واجب ہو گی ۔ واضح رہے کہ یہ قربانی دمِ شکر کی قربانی سے الگ ہے۔مسئلہ: مردوں پر جس طرح قربانی واجب ہے اسی طرح عورتوں پر بھی مذکورہ بالا شرائط کے ساتھ قربانی لازم ہے ۔ چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ۔ مسئلہ: جو شخص صاحب نصاب نہیں ، اس پر قربانی واجب نہیں۔ مسئلہ: سونا، چاندی، نقد اور سامان تجارت کے علاوہ ضرورت سے زائد سامان کی قیمت بھی لگائی جائے گی ، یعنی کسی کے پاس ضرورت سے زائد سامان موجود ہے اور سال بھر وہ استعمال میں نہیں آتا اگر اس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو اس پر قربانی واجب ہو گی۔ مسئلہ: اگر باپ اور بیٹوں کی ملکتییں الگ الگ ہوں او رہر ایک صاحب نصاب ہو تو ان میں سے ہر ایک پر قربانی واجب ہے او راگر باپ بیٹے اکھٹے رہتے ہوں ، ملکیتیں الگ الگ نہ ہوں اور بیٹوں کا مستقل کاروبار بھی نہیں اور ان کے پاس بقدر نصاب رقم بھی نہ ہو تو بیٹوں پر قربانی واجب نہیں ۔ مسئلہ: میاں بیوی کی ملکیتیں الگ شمار ہوں گی ، لہٰذا دونوں صاحب نصاب ہوں تو ہر ایک پر مستقل قربانی لازم ہے اگر دونوں صاحب نصاب نہیں لیکن دونوں کی مجموعی ملکیتیں نصاب کے برابر ہوں تو ان پر قربانی واجب نہیں۔ اگر ایک صاحب نصاب ہو ( مثلاً شوہر کاروبار کی وجہ سے یا بیوی زیورات کے مالک ہونے کی وجہ سے) تو صرف اس پر قربانی لازم ہے ،دوسرے پر نہیں۔ نیز جو قرض شوہر پر لازم ہو بیوی کو اپنے نصاب سے یا بیوی مقروض ہو تو شوہر کو اپنے نصاب سے ان کو منہا کرنا جائز نہیں ۔
قربانی کے جانور اور ان کی عمریں
مسئلہ: گائے، بیل، بھینس، اونٹ ، اونٹنی، بکرا ، بکری ، بھیڑ اور دنبہ کی قربانی جائز ہے ، ان کے علاوہ دیگر جانوروں مثلاً مرغا، مرغی ، خورگوش ، بطخ اور کبوتر وغیرہ کی قربانی جائز نہیں اور قربانی کی نیت سے ذبح کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ مسئلہ : قربانی کے جانوروں میں سے اونٹ پانچ سال ، گائے ، بیل، بھینس اور بھینسا دو سال کا، بکرا بکری، بھیر اور دنبہ ایک سال کا ہونا ضروری ہے ، اس سے کم عمر والے جانور کی قربانی جائز نہیں ۔ البتہ چھے ماہ کا دنبہ اس قدر فربہ ہو کہ وہ سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی درست ہے ۔ مسئلہ: قربانی کے جانور میں حضرات فقہائے کرام نے عمر کا لحاظ رکھا ہے اور دو دانت ہونے کو اس کی علامت قرار دیا ہے ، لہٰذا جانور اگر سن رسیدہ ہو تو اس کی قربانی درست ہے اور دو دانت کی علامت ہو تو بہتر ہے او راگر دو دانت کی علامت نہیں لیکن سن رسیدہ ہے تو بھی اس کی قربانی درست ہے ۔ مسئلہ:اگر بکرے کے سال مکمل ہونے میں ایک آدھ دن باقی ہے تو اس کی قربانی درست نہیں ۔مسئلہ : اگر جانور دیکھنے میں کم عمر کا معلوم ہوتا ہو مگر یقین کے ساتھ معلوم ہو کہ اس کی عمر پوری ہے تو اس کی قربانی درست ہے۔ مسئلہ: نیل گائے، اور ہرن حلال جانور ہیں ان کا گوشت کھانا جائز ہے، لیکن چوں کہ وحشی جانور ہیں اس لیے ان کی قربانی جائز نہیں۔ اسی طرح گھوڑے کی قربانی بھی جائز نہیں۔
قربانی کے حصے
مسئلہ: گائے ، بیل ، بھینس، بھینسا، اونٹ اور اونٹنی میں سات افراد شریک ہوں تو مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ قربانی درست ہے: تمام شرکاء مسلمان ہوں زیادہ سے زیادہ حصہ دار سات ہوں۔ثواب حاصل کرنے کی نیت سے شریک ہوں ، اگر چہ ثواب حاصل کرنے کی جہت مختلف ہو ، مثلاً واحب قربانی ، نفلی قربانی، عقیقہ اور ولیمہ، لہٰذا اگر کوئی شخص گوشت حاصل کرنے کی نیت سے شریک ہو گا تو سب کی قربانی درست نہیں۔ سب کی آمدنی حلال ہو ۔ مسئلہ: سات افراد سے کم مثلاً چار یا پانچ یا چھ یا اس سے بھی کم افراد شریک ہوں تب بھی قربانی کرنا درست ہے ، البتہ سات افراد سے زیادہ اگر شریک ہوئے تو کسی کی قربانی نہیں ہو گی ۔
وہ جانور جن کی قربانی جائز ہے
مسئلہ: جس جانور کے پیدائشی سینگ نہ ہوں یا بعد میں ٹوٹ گئے ہوں ، بشرطیکہ سینگ جڑ سے نہ ٹوٹا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ مسئلہ: جس بھیڑ یا بکری کی دم پیدائشی طور پر چھوٹی ہو تواس کی قربانی درست ہے ۔ مسئلہ: جو جانو رکا نا ہو لیکن اس کا کانا پن ظاہر نہ ہو تو اس کی قربانی جائز ہے ۔ مسئلہ: لنگڑا جانور جو چلنے پر قادر ہو اور چوتھا پاؤں زمین پر رکھ کر اوراس کا سہارا لے کر چلتا ہو ، تو اس کی قربانی جائز ہے۔ مسئلہ: جو جانور بیمار ہو ، لیکن اس کی بیماری ظاہر نہ ہو تو اس کی قربانی درست ہے ۔ مسئلہ: جس جانور کو کھانسی یا خارش کی بیماری لاحق ہو اس کی قربانی درست ہے ۔ مسئلہ: جس جانور کا کان چیر دیا گیا ہو ،یا ایک تہائی سے کم کاٹ دیا گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ مسئلہ: جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں اور اگر کچھ گر گئے ہیں لیکن باقی زیادہ ہیں اور چارہ کھا سکتا ہے تو اس کی قربانی درست ہے ۔ مسئلہ: جس جانو رکے بال کاٹ دیے گئے ہوں اس کی قربانی جائز ہے ۔ مسئلہ: بانجھ جانور کی قربانی جائز ہے ، اس لیے کہ بانجھ ہونا قربانی کے لیے عیب نہیں ۔ مسئلہ: خصی بکرے ، مینڈھے او ربیل کی قربانی جائز ہے او راس میں کسی قسم کی کراہت نہیں ، چاہے خصیتین کو کاٹ دیا گیا ہو یا دبا کر بے کار کر دیا گیا ہو، اس لیے کہ یہ گوشت کی عمدگی کے لیے کیاجاتا ہے اور آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے بنفسِ نفیس خصی جانور کی قربانی فرمائی ہے ، اس لیے خصی ہونا نہ صرف یہ کہ عیب نہیں بلکہ قربانی کے جانور کا ایک پسندیدہ وصف ہے ۔ مسئلہ: جس جانور کے پیٹ میں بچہ ہو اس کی قربانی صحیح ہے، البتہ ولادت کے قریب ذبح کرنا مکروہ ہے ، تاہم دبح کے بعد اگر بچہ زندہ ہو تو اس کو بھی ذبح کر لیا جائے اور کھا لیا جائے اور اگر مردہ ہو تو اس کا کھانا جائز نہیں۔
وہ جانور جن کی قربانی ناجائز ہے
مسئلہ: جس جانور کے سینگ جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں اس کی قربانی جائز نہیں۔ مسئلہ: جس جانو رکے پیدائشی کان ہی نہیں ، یا پورا ایک کان کٹا ہوا ہے، یا تہائی حصہ یا اس سے زیادہ کٹا ہوا ہے ، اس کی قربانی درست نہیں ۔ مسئلہ: جس جانور کی ناک کٹی ہوئیہے ، اس کی قربانی جائز نہیں۔ مسئلہ: جو جانور اندھا ہو یا اس کی تہائیبینائی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو ، اس کی قربانی جائز نہیں۔ مسئلہ: جس جانور کی زبان کٹی ہوئی ہو اور چارہ نہ کھا سکتا ہو اس کی قربانی درست نہیں ۔ مسئلہ: جس جانور کے دانت بالکل نہ ہوں ، اس کی قربانی جائز نہیں۔ مسئلہ: بھیڑ، بکری اور دنبی کے ایک تھن سے دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ مسئلہ: بھینس گائے او راونٹنی کے دو تھنوں سے دودھ نہ اترتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں ۔ مسئلہ: جو جانور اتنا لنگڑا ہے کہ فقط تین پاؤں سے چلتا ہے ، چوتھا پاؤں رکھا ہی نہیں جاتا یا رکھا تو جاتا ہے مگر جانور چل نہیں سکتا تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ مسئلہ: جس جانور کی دُم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹی ہوئی ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔ مسئلہ: ایسا دُبلا اور لاغر جانور جس کی ہڈیوں میں گودانہ ہو ، یا ذبح کرنے کی جگہ تک نہ جاسکتا ہو تو اس کی قربانی جائز نہیں۔
قربانی کا وقت
مسئلہ: عید الاضحی کی دسویں تاریخ کی صبح صادق سے بارہویں تاریخ کی شام تک قربانی کا وقت ہے۔ ان تینوں دونوں میں جس وقت بھی قربانی کی جائے درست ہے ، لیکن افضل بقر عید کا پہلا دن ہے ، پھر دوسرا ، پھر تیسرا۔ مسئلہ: گیارہویں اور بارہویں ذوالحجہ کی رات کو قربانی کا جانور ذبح کرنا درست ہے ، لیکن بہتر یہ ہے کہ رات کو ذبح نہ کیا جائے ، اس لیے کہ رگوں کے درست طریقے سے نہ کٹنے کا امکان ہے ۔ مسئلہ: بارہویں تاریخ کو سورج کے غروب سے پہلے تک قربانی درست ہے ، لیکن جب سورج غروب ہو جائے تو اس کے بعد قربانی درست نہیں ہو گی ۔ مسئلہ: شہرِ والوں پر لازم ہے کہ قربانی کا جانور عید کی نماز کے بعد ذبح کریں ، اس سے پہلے ذبح کرنا جائز نہیں ، تاہم شہروں میں اگر عید کی نماز کسی وجہ سے نہیں پڑھی جاسکی تو نماز عید کا وقت گزر جانے کا انتظار کیا جائے ، یعنی زوال تک انتظار کیا جائے پھر زوال کے بعد قربانی کی جائے ۔ مسئلہ: کسی عذر کی وجہ سے اگر عید کی نماز دسویں ذوالحجہ کو نہیں پڑھی جاسکی،بلکہ گیارہویں یا بارہویں کے لیے مؤخر کر دی گئی، تو گیارہویں اور بارہویں کو نماز عید سے پہلے قربانی کرنا درست ہے ۔ مسئلہ: اگر قربانی کرنے والے نے نماز عید ابھی تک نہیں پڑھی، مگر شہر میں کسی بھی جگہ نماز عید ادا کی گئی ہے تو وہ قربانی کر سکتا ہے ، اس لیے کہ خود قربانی کرنے والے کا نماز عید سے فارغ ہونا ضروری نہیں ، بلکہ مسجد یا عید گاہ میں نماز عید کا ادا ہو جانا کافی ہے۔ مسئلہ: دیہات او رگاؤں میں نماز عید وجمعہ واجب نہیں صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد قربانی کرنا درست ہے۔
ذبح کرنے کے ضروری مسائل
مسئلہ: جو شخص ذبح کرنا جانتا ہے تو اس کے لیے افضل یہ ہے کہ قربانی کا جانور خود ذبح کرے ، اگر خود ذبح کرنا نہیں جانتا تو دوسرے سے ذبح کراسکتا ہے مگر ذبح کے وقت وہاں خود موجود ہونا افضل ہے۔ اگر ذبح کرتے وقت مندرجہ ذیل دعا یا د ہو تو اسے پڑھے او راگر دعا یاد نہیں تو کوئی حرج نہیں ، دل سے نیت ہی کافی ہے ۔
دعا یہ ہے :” ﴿ إِنِّيْ وَجَّھْتُ وَجْھِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَاْلأَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا أَنَا مِنَ المُشْرِکِینَ، إِنّ صَلاتِيْ وَنُسُکِيْ وَمَحْیَايَ ومَمَاتِيْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیِْنَ، وبذلک أمرت وأنا أول المسلمین․ اللھم منک ولک ﴾․
پھر﴿بِسْمِ اللهِ اَللّٰہُ أَکْبَرُ﴾ کہہ کر ذبح کر یں اور اس کے بعد یہ دعا پڑھیں:﴿اَللّٰھُمَّ تَقَبّلْہ مِنِّيِ کَمَا تَقَبَّلْتَ مِنْ حَبِیْبِکَ وخَلِیْلِکَ اِبْراھِیمَ عَلَیہِما الصلوة والسَّلاَم﴾
مسئلہ: ذبح کرنے کی اجرت لینا جائز ہے، بشرطیکہ اجرت متعین ہو۔ مسئلہ: عورت او ربچے کا ذبح کرنا بھی جائز ہے ، بشرطیکہ بچہ ذبح کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ مسئلہ: قربانی میں ذبح کرتے وقت شرکاء کا نام پکارنے کی ضرورت نہیں ،البتہ ذبح کرنے والا ان سب کی نیت کرے۔ مسئلہ: تیز چُھری سے ذبح کرنا مستحب ہے۔ مسئلہ: ذبح کرنے کے فوراً بعد کھال نہ اتاری جائے ، بلکہ جسم ٹھنڈا ہونے کا انتظار کیا جائے، پھر کھال اتار دی جائے۔ مسئلہ: قبلہ رخ بائیں کروٹ پر جانو رکو لٹانا مستحب ہے ۔ مسئلہ: مرتد، قادیانی اور زندیق کا ذبیحہ حرام ہے ، ان سے قربانی کے موقع پر یا کسی او رجانور کا ذبح کرانا حرام ہے۔
گوشت کی تقسیم
مسئلہ: قربانی کا گوشت خو دکھانا او ررشتہ داروں ، مال داروں اور فقیروں میں تقسیم کرنا جائز ہے ، لیکن بہتر یہ ہے کہ تہائی حصہ خیرات کرے، اگر تہائی سے کم خیرات کیا تو بھی کوئی گناہ نہیں۔ مسئلہ: بڑے جانور میں اگر سات آدمی یا اس سے کم شریک ہوں تو گوشت تقسیم کرتے وقت اٹکل سے نہ بانٹیں ، بلکہ تو ل کر وزن کرنا ضروری ہے ، کمی بیشی کی صورت میں سود کا گناہ ہو گا۔ مسئلہ: جب شرکاء آپس میں گوشت تقسیم کرنا چاہیں تو وزن کرکے تقسیم کرنا ضروری ہے ، اگر سارا گوشت لوگوں میں تقسیم کرنا چاہیں ، یا پکا کرکھلائیں تو اس وقت تقسیم کرنا ضروری نہیں۔ مسئلہ: مستحب یہ ہے کہ قربانی کا گوشت تین حصہ کرکے ایک حصہ اپنے اہل وعیال کے لیے ، ایک حصہ رشتہ داروں میں او رایک حصہ فقراء اور محتاجوں میں تقسیم کرے۔ اگر کوئی شخص عیال دار ہونے کی وجہ سے یاویسے ہی تمام گوشت خود رکھنا چاہتا ہے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں۔ مسئلہ: قربانی کا گوشت ، سری پائے او چربی کا بیچنا جائز نہیں ، بالفرض اگر کسی نے فروخت کر لیا تو اس کی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہے ، اپنے پاس رکھنا یا استعمال میں لانا جائز نہیں ۔ مسئلہ: قصائی کو بطور اجرت گوشت دینا جائز نہیں۔مسئلہ: قربانی کا گوشت سکھا کر رکھنا درست ہے۔
قربانی کی کھال
مسئلہ: قربانی کرنے والا یا اس کے اہل وعیال کھا ل کو اپنے استعمال میں لاسکتے ہیں ، مثلاً جائے نماز ، موزہ ، مشکیزہ اور دسترخاون بنا کر اپنے استعمال میں لانا جائز ہے ۔ مسئلہ: کھا ل کسی امیر شخص کو بھی دینا جائز ہے ،البتہ فروخت کرنے کے بعد قیمت کا صدقہ کرنا ضروری ہے ، قیمت اپنے استعمال میں لانا یا کسی غنی اور امیر کو دینا جائز نہیں۔ مسئلہ: کھال یا اس کی قیمت کسی ملازم کو تنخواہ اور کام کے عوض میں دینا جائز نہیں ، جیسے امام، مؤذن اور قصائی کو بحق اجرت کھال دینا درست نہیں ، البتہ اگر یہ لوگ مستحق ہوں تو مستحق ہونے کی وجہ سے دینا درست ہے ۔ مسئلہ: قربانی کی کھال کسی ایسے ادارے یا انجمن یا کسی ایسے رفاہی ادارہ کو دینا جائز نہیں جو اس رقم کو مستحقین پر خرچ نہیں کرتی بلکہ جماعت اور ادارہ کی دیگر ضروریات میں خرچ کرتی ہے ۔ مسئلہ :قربانی کے بعد جانو رکی رسی ، جھول اور ہار کا صدقہ کرنا بہتر ہے ان کا بیچنا یا حق الخدمت کے طور رپر دینا جائز نہیں ۔مسئلہ : موجودہ زمانے میں دینی مدارس میں چرمہائے قربانی کا دینا سب سے افضل او ربہتر ہے ، اس لیے کہ غریب طلبہ کی امداد بھی ہے اور علم دین کی خدمت بھی۔

Wednesday, 23 August 2017

NEWS


best online Quran academy online islamic center


                         Welcome to AlSyed Online Quran Academy

AlSyed online Quran academy has proved itself as one of the well recognized online Quran Teaching center around the globe. Our aim is to impart quality and theme based learning of the ‘Holy Quran’ and the most renowned religion in the world ‘The Islam’ as per true spirit of Islam and the efforts/teachings made/taught by our Holy prophet (PBUH).
The Prophet (PBUH) Said, “The Best among You (Muslims) Are Those Who Learn the Quran and Teach It” With the rapid increase of our religion ‘Islam’ in the world now-a-days, it has become our prime responsibility to fulfill the basic requirements of the new comers to Islam and to whom as well who are already part of our family (Islam).
As we are living in 21st century things were updated, and our kids like to learn through smart devices like Laptops, Smartphones and Tablets. Muslims parents are eager to groom their beloved children as per the teachings of Islam. Now Alkhair Quran academy provides online Quran male/female tutors for new generation kids, who take Quran classes online by using technology like Skype, Teamviewer etc. To fulfill this utmost need of parents, we have devised very simple teaching methodology. We have experienced and hardworking teaching faculty, who has proved themselves over the years by showing dedication to their profession.
Languages:
You can read in English, Arabic, Urdu, Punjabi and Pashto. Male and female teachers are available.

Courses:
• Quran Reading With Tajweed
• Quran for Kids
• Memorization of Quran
• Knowledge of Quran and Islam
• Translation of Quran
• Tafseer-e-Quran ( Interpretation of the Holy Quran )
• Dars-e-Hadith and Sunnah

Procedure:
We teach through Skype Software and Team Viewer including screen sharing from our side.
Requirement for the class are:
• Computer /Laptop 
• Internet Connection
• Headphone Microphone

24 Hours Service:
Our classes are 24 hours a day 7 days a week, any time you want to schedule your class, it is a one to one class.
Join us for online Quran classes:
1) one on one classes
2) 30 min class duration
3) no age or gender limits
4) 2, 3 or 5 sessions a week
5) trial classes are free for a week. You can choose 3, 4 or 5 sessions a week.
6) in these classes you get to learn the basics (Qaida, Quran, Tajweed, prayer with translation, Duas and so on)


Contact Us:
Skype id Ubaid322
Mobail No  +92-322-2984599
Our Website: www.Quran322.tk

Saturday, 4 February 2017

سنہری اقوال




















Academy Online | Quran Reading



Academy Online | Quran Reading | Quran Tutoring | Quran Learning Website | Learn Tajweed | Learn Quran | Read Noorani Qaida online | Quran Recitation | Quran Memorization | Quran Teacher Online Islamic Center | Online Islamic School | Quran Education Online | Quran Teaching | Noorani Qaidah | Quran Online | Online Tajweed Tutor | Understand Quran | Online Quran Tutor | Family Package | Quran Translation Online | Islamic Academy | Tajweed Academy | Learn Quran with Tajweed | Arabic Quran | Basic Quran Reading | Quran Teacher for kids | Online Quran for muslim children | Taleem e Quran | Quran Learning School | Online Tajweed Courses | Learn Tajweed Online | Quran Classes | Online Quran Lessons | Online Quran Courses | Memorize Quran Online | Online Quran Recitation | Learn the holy Quran Online | Online Holy Quran Learning | Quran Learning for Adults | Online Quran Software | Sunday Islamic School | Tarteel ul Quran | Online Quran Teaching Academy | Holy Quran Learning | Quran Tutoring Center | Online Quran Reading Institute | Home of Islamic Knowledge

Saturday, 28 January 2017

Online learning Quran academy




Online Quran Academy is your source for quality online education for Quran, Hadith, Fiqah and many other Islamic topics. 
Our qualified Islamic teachers (having dars-e-nizami course of 8 years) are available to help people learn Quran online according to Tajweed rules, providing one-to-one lectures.
Tajweed and its application can only be learned with a qualified teacher. The rules themselves can be studied independently, but their correct application can only be done by listening to, reciting to, and being corrected by, a qualified teacher of the Qur’an.

Languages:
You can read in English, Arabic, Urdu, Punjabi and Pashto. Male and female teachers are available.

Courses:
• Quran Reading With Tajweed
• Quran for Kids
• Memorization of Quran
• Knowledge of Quran and Islam
• Translation of Quran
• Tafseer-e-Quran ( Interpretation of the Holy Quran )
• Dars-e-Hadith and Sunnah

Procedure:
We teach through Skype Software and Team Viewer including screen sharing from our side.
Requirement for the class are:
• Computer /Laptop 
• Internet Connection
• Headphone Microphone

24 Hours Service:
Our classes are 24 hours a day 7 days a week, any time you want to schedule your class, it is a one to one class.
Join us for online Quran classes:
1) one on one classes
2) 30 min class duration
3) no age or gender limits
4) 2, 3 or 5 sessions a week
5) trial classes are free for a week. You can choose 3, 4 or 5 sessions a week.
6) in these classes you get to learn the basics (Qaida, Quran, Tajweed, prayer with translation, Duas and so on)


Contact Us:
Skype id Ubaid322
Mobail No  +92-322-2984599
Our Website: www.Quran322.tk

...................................................................................................
Remember us in your prayers 
Information Department
Al-Syed Quran Academy Islamabad
Allah Hafiz

Saturday, 21 January 2017

free Admission for Online Quran classes


Assalam o Alikum my sister and brother 
free Admission for Online Quran classes
basic islamic teaching 
Quran Qaida 
Hifiz e Quran 
tafseer
namaz kalmaz
40 duas 40 Ahadith
for male female and your kids
male female tutors
contact us
Skype id ubaid322
Mobil whatsapp and viber No +92-322-2984-599

Thursday, 12 January 2017

Islam is the religion of mercy and kindness


Islam is the religion of mercy and kindness, the religion of tolerance and ease. Allaah has not burdened this ummah (community, nation) with more than it can bear. Whatever good it does, it will be rewarded for it, and whatever evil it does, it will have to bear the burden of that sin, as Allaah says (interpretation of the meaning):
“Allaah burdens not a person beyond his scope. He gets reward for that (good) which he has earned, and he is punished for that (evil) which he has earned”
[al-Baqarah 2:286]
Allaah has spared the Muslims any difficulty or hardship in all that He has enjoined upon them. Allaah says (interpretation of the meaning):
“He has chosen you (to convey His Message of Islamic Monotheism to mankind by inviting them to His religion of Islam), and has not laid upon you in religion any hardship”
[al-Hajj 22:78]
Every sin that a Muslim commits because he makes a mistake, or forgets, or is forced to do it, is forgiven by Allaah, as Allaah says (interpretation of the meaning):
“Our Lord! Punish us not if we forget or fall into error”
[al-Baqarah 2:286]
And Allaah says: your prayer is granted.
The Muslim will be brought to account for what he does deliberately, not for what he does by mistake, as Allaah says (interpretation of the meaning):
“And there is no sin on you concerning that in which you made a mistake, except in regard to what your hearts deliberately intend”
[al-Ahzaab 33:5]
Allaah is Kind and Merciful. He sent Muhammad (peace and blessings of Allaah be upon him) with ease and the tolerant monotheism:
“Allaah intends for you ease, and He does not want to make things difficult for you
[al-Baqarah 2:185 – interpretation of the meaning]
The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “Religion is very easy and whoever overburdens himself in his religion will not be able to continue in that way. So you should not be extremists, but try to be near to perfection and receive the good tidings that you will be rewarded.” (narrated by al-Bukhaari, 39).
The Shaytaan is man's greatest enemy. He makes him forget the remembrance of his Lord (dhikr) and makes his sin attractive to him, as Allaah says (interpretation of the meaning):
“Shaytaan (Satan) has overpowered them. So he has made them forget the remembrance of Allaah. They are the party of Shaytaan (Satan). Verily, it is the party of Shaytaan (Satan) that will be the losers![al-Mujaadilah 58:19]
What one’s own nafs (self) says has been forgiven by Allaah, The Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “Allaah has forgiven my ummah for thoughts that cross their minds, so long as they do not speak of them or act upon them.” (Narrated by Muslim, 127)
Whoever commits a sin then Allaah conceals it, it is not permissible for him to speak of it, because the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said: “All of my ummah will be fine except those who commit sin openly.” (Narrated by Muslim, 2990).
If a person commits a sin then repents, Allaah will accept his repentance:
“Your Lord has written (prescribed) Mercy for Himself, so that if any of you does evil in ignorance, and thereafter repents and does righteous good deeds (by obeying Allaah), then surely, He is Oft‑Forgiving, Most Merciful” [al-An’aam 6:54 – interpretation of the meaning]
Allaah is Generous and Kind, He multiplies the reward for good deeds and forgives bad deeds, as the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) said, narrating the words of his Lord: “Allaah has decreed hasanaat (good deeds) and sayi’aat (bad deeds), then He explained that. Whoever intends to do a good deed then does not do it, Allaah will write it down as one complete hasanah; if he intends to do it then he does it, then Allaah will write it down as between ten and seven hundred hasanaat, or more. Whoever intends to do a bad deed, then he does not do it, Allaah will write it down as one complete hasanah; if he intends to do it then he does it, Allaah will write it down as one sayi’ah.” (Agreed upon; narrated by al-Bukhaari, Kitaab al-Raqaa’iq, 81)