Wednesday, 26 November 2014

صفا مروہ




صفا
کعبہ شریف کے جنوبی مشرقی کونے پر ایک چھوٹی پہاڑی ہے جہاں سے سعی شروع کی جاتی ہے۔

مروہ

کعبہ شریف کے شمال کونے پر ایک دوسری چھوٹی پہاڑی ہے جہاں سعی ختم کی جاتی ہے۔ صفا و مروہ کے درمیان تقریباً دو فرلانگ کا لمبا راستہ ہے جو سنگ مرمر کے ستونوں اور دیواروں پر دو منزلہ بنایا گیا ہے اور زمین پر بھی سنگ مرمر بچھا دیا گیا ہے جس سے حجاج کو سعی میں بڑی سہولت ہو گئی ہے۔

www.Quran322.blogspot.com
Skype id Ubaid322
Mob +92322-2984599


ملتزم



ملتزم

حجر اسود اور کعبہ شریف کے دروازے کے درمیان جو دیوار کا حصہ ہے اْسے ملتزم کہتے ہیں۔ ملتزم کے معنی ہیں لپٹنے کی جگہ۔ یہاں پر لوگ لپٹ لپٹ کر دْعائیں کرتے ہیں غالباً اسی وجہ سے اس کا نام ملتزم پڑا۔ حدیث شریف میں ہے کہ ملتزم ایسی جگہ ہے جہاں دْعا قبول ہوتی ہے۔ کسی بندہ نے وہاں ایسی دْعا نہیں کی جو قبول نہ ہوئی ہو۔ (حصن حصین )

مستجاب

رکن یمانی اور رکن اسود کے درمیان جنوبی دیوار کو مستجاب کہتے ہیں۔ یہاں ستّر ہزار فرشتے دْعا پر آمین کہنے کے لئے مقرر ہیں اس لئے اس کا نام مستجاب رکھا گیا۔

حطیم



حطیم

رکن شامی اور رکن عراقی کے درمیان مدینہ طیبہ کی جانب قوس کی شکل میں ایک جگہ ہے جو آمد و رفت کا راستہ چھوڑ کر سنگ مرمر کی تقریباً پانچ فٹ بلند دیوار سے گھری ہوئی ہے اس کے دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا کعبہ شریف کی محراب مدینہ شریف کی طرف گر گئی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میرا دِل چاہتا تھا کہ میں کعبہ شریف کے اندر جا کے نماز پڑھوں تو حضور نے میرا ہاتھ پکڑ کر حطیم میں داخل کردیا اور فرمایا کہ جب تیرا دل کعبہ میں داخل ہونے کو چاہے تو یہاں آکر نماز پڑھ لیا کر کہ یہ کعبہ ہی کا ٹکڑا ہے تیری قوم نے جب کعبہ کی تعمیر کی اس حصہ کو (خرچ کی کمی کے سبب ) کعبہ سے باہر کردیا۔ 
(ابوداؤد )

www.Quran322.blogspot.com
Skype id Ubaid322
Mob +92322-2984599

زم زم



زم زم:

مقام ابراہیم سے متصل دکھن جانب زم زم کا کنواں واقع ہے ۔مقام ابراہیم کی طرح زم زم بھی مطاف میں تھا۔ بھیڑ کی وجہ سے چند سال پہلے اْسے نچلے حصے میں لے جایا گیا۔ الیکٹرک کے ذریعہ اس کا پانی کھینچ کر باہر بنے ہوئے نلوں میں پہنچایا جاتا ہے جس سے آب زم زم کے حصول میں بڑی سہولت پیدا ہوگئی ہے۔ حدیث شریف میں آبِ زمزم کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ حضور سید عالم ﷺ نے فرمایا ہے کہ زم زم کا پانی جس نیت سے پیا جائے وہی فائدہ حاصل ہوتا ہے ( ابن ماجہ ) اور ایک دوسری حدیث میں ہے کہ زم زم کا پانی خوراک ہے، شکم سیری کے لئے اور شفا ہے بیماری کے لئے۔ چنانچہ ایک مصری ڈاکٹر کی تحقیقات کی رو سے آب زم زم میں مندرجہ ذیل معدنی اجزاء پائے جاتے ہیں جو طرح طرح کی بیماریوں کے لئے مفید ہیں۔ میگنیشیم ، سوڈیم سلفیٹ ، سوڈیم کلورائیڈ ، کیلشیم کاربونیٹ ، پوٹاشیم نائٹریٹ ، ہائیڈروجن اور گندھک۔

www.Quran322.blogspot.com
Skype id Ubaid322
Mob +92322-2984599

کعبہ شریف کے گوشہ


رْکن:
کعبہ شریف کے گوشہ یعنی کونا کو رْکن کہتے ہیں۔ جنوب مغرب کا گوشہ جو یمن کی طرف ہے اْسے رْکن یمانی کہتے ہیں۔ شمال مغرب کا گوشہ جو ملک شام کی طرف ہے اْسے رْکن شامی کہتے ہیں۔ شمال مشرق کا گوشہ جو عراق کی طرف ہے اسے رْکن عراقی کہتے ہیں اور جنوب مشرقی کونا 
جس میں حجر اسود ہے اْسے رْکن اسود کہتے ہیں۔

www.Quran322.blogspot.com
Skype id Ubaid322
Mob +92322-2984599

I Love Quran



بِسۡمِ ٱللهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

ٱلۡحَمۡدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى خَلَقَ ٱلسَّمَـٰوَٲتِ وَٱلۡأَرۡضَ وَجَعَلَ ٱلظُّلُمَـٰتِ وَٱلنُّورَ‌ۖ ثُمَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ بِرَبِّہِمۡ يَعۡدِلُونَ (١)


Friday, 14 November 2014

اللہ تعالٰی کن لوگوں سے محبت کرتا ہے؟

                                                
                                       اللہ تعالٰی کن لوگوں سے محبت کرتا ہے؟

1۔ اللہ صبر کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (ال-عمران، 146)
2۔ بے شک اللہ تعالٰی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے (ال-ممتحنہ، 8
3۔ بے شک اللہ تعالٰی اُن لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اُس پر توکل کرتے ہیں (ال-عمران، 159)
4۔ بے شک اللہ اُن سے محبت کرتا ہے جو توبہ کرتے ہیں (ال-بقرہ، 222)
5۔اللہ تعالٰی پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (سورت توبہ، 108
                                                                           
contact us 


cell +92322-2984599 
skypeid   ubaid322



اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قران کی آیات!


                                    اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں قران کی آیات

اللہ تعالی نے اپنے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر قران نازل فرمایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے ہی تمام انسانیت تک یہ ہدایت کی روشنی پہنچی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی قران پر عمل کا نمونہ تھی اور ہر مسلمان پر رسول صلی اللہ وسلم کی اطاعت کو فرض قرار دے دیا گیا ہے۔ قران میں متعدد بار رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم نازل ہوا ہے۔ آئیں اس دھاگے میں 
    اطاعت رسول پر صاد کرنے والی آیات قرانی کے حوالے اکٹھے کریں۔ 

[ayah]3:32[/ayah] [arabic]قُلْ أَطِيعُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ فإِن تَوَلَّوْاْ فَإِنَّ اللّهَ لاَ يُحِبُّ الْكَافِرِينَ [/arabic]
آپ فرما دیں کہ اﷲ اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو پھر اگر وہ روگردانی کریں تو اﷲ کافروں کو پسند نہیں کرتا

[ayah]3:132[/ayah] [arabic] وَأَطِيعُواْ اللّهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ [/arabic]
اور اللہ کی اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے

[ayah]4:13 [/ayah][arabic] تِلْكَ حُدُودُ اللّهِ وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ [/arabic]
یہ اللہ کی (مقرر کردہ) حدیں ہیں، اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمانبرداری کرے اسے وہ بہشتوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں رواں ہیں ان میں ہمیشہ رہیں گے، اور یہ بڑی کامیابی ہے
                      
Online Quran Teaching 
Skype Id Ubaid322 Mob +92-322-2984599

Thursday, 13 November 2014

حجر اسود کیا ہے کہاں سے آیا ہے۔



                                      حجر اسود کیا ہے کہاں سے آیا ہے۔

کعتبہ اللہ کے جنوب مشرقی گوشے کی دیوار میں تقریباً چار فٹ کی بلندی پر ایک قدیم اور مقدس
 ترین آسمانی پتھر نصب ھے جسکےگرد چاندی کا چاکھٹا ھے۔ یہی پتھر حجراسود کہلاتا ھے۔
حجر اسود عربی زبان کے دو الفاظ کا مجموعہ ہے۔ حجر عربی میں پتھر کو کہتے ہیں اور اسود سیاہ اور کالے رنگ کے لیے بولا جاتا ہے۔ حجر اسود وہ سیاہ پتھر ہے جو کعبہ کے جنوب مشرقی دیوار میں نصب ہے۔ اس وقت یہ تین بڑے اور مختلف شکلوں کے کئی چھوٹے ٹکڑوں پرمشتمل ہے۔ یہ ٹکڑے اندازاً ڈھائی فٹ قطر کے دائرے میں جڑے ہوئے ہیں جن کے گرد چاندی کا گول چکر بنا ہوا ہے۔ جو مسلمان حج یاعمرہ کرنےجاتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ طواف کرتے ہوئے ہر بار حجراسود کو بوسہ دیں۔ اگر ہجوم زیادہ ہو تو ہاتھ کے اشارے سے بھی بوسہ دیا جاسکتا ہے۔
مرکز کعبہ اور کروڑوں فرزند ان اسلام کی عقیدتوں کا محور کعبے کا یہ پتھر صرف مسلمانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ دنیا کے تمام مذاہب کے پیروکار اسے مقدس مانتے ہیں۔ اور اس پتھر کو اللہ کی نشانی قرار دیتے ہیں۔ 
اسلامی روایات کے مطابق جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ اسلام خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے۔ تو حضرت جبرائیل علیہ اسلام نے یہ پتھر جنت سے لا کر دیا جسے حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اپنے ہاتھوں سے دیوار کعبہ میں نصب کیا۔ 606ء میں جب رسول اللہ ﷺ کی عمر35 سال تھی ، سیلاب نے کعبے کی عمارت کو سخت نقصان پہنچایا اور قریش نے اس کی دوبارہ تعمیر کی لیکن جب حجر اسود رکھنے کا مسئلہ آیا تو قبائل میں جھگڑا ہوگیا۔ ہر قبیلے کی یہ خواہش تھی کہ یہ سعادت اسے ہی نصیب ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے اس جھگڑے کو طے کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا کہ حجر اسود کو ایک چادر میں رکھا اور تمام سرداران قبائل سے کہا کہ وہ چادر کے کونے پکڑ کر اٹھائیں۔ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھایا اور جب چادر اس مقام پر پہنچی جہاں اس کو رکھا جانا تھا تو آپ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے اس کو دیوار کعبہ میں نصب کر دیا۔ 
دور جاہلیت میں ایک بار کعبے کو خشبو کی دھونی دی گئی تو غلاف کعبہ کو آگ لگ گئی جس سے حجراسود بھی جھلس گیا 64ھ میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور اموی فوج سے لڑائی میں ایک بار پھر خوفناک آگ سے حجراسود کے تین ٹکڑے ھوگئے۔ عبداللہ بن زبیر نے چاندی کے موٹے خول میں ان ٹکڑوں کو محفوظ کر کے خانہ کعبہ کی دیوار میں لگا دیا۔ 180ھ میں خلیفہ ہارون الرشید نے حجراسود کے ان ٹکڑوں میں سوراخ کروا کر چاندی سے مربوط کر دیا۔317 ھ میں مکہ پر قرامطہ قابض ھوگئے انہوں نے حرم میں خون بہایا بہت سے حجاج شہیدان کا مقصد میزاب رحمت[سونے کا پرنالہ] مقام ابراہیم اور حجراسود کو چوری کرنا تھا ۔ ابو طاہر کے حکم سے جعفر بن معمار نے14 ذی الحج 317 ھ کو کدال مار کر حجراسود کو اکھاڑ لیا اور بحرین لے گیا۔ تقریباً 22 سال تک رکن اسود پر جگہ خالی رہی اور حجاج صرف خالی جگہ کو ہاتھ لگا کر بوسہ کرتے تھے۔
بالاآخر10 ذی الحج 339 ھ کو بحرین سے سبز بن کرامطی حجراسود کو واپس لایا۔ اور دوبارہ خانہ کعبہ کی زینت بنایا 368 ھ میں ایک رومی نے حجراسود کو چرانے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ 414 ھ میں ایک عجمی نے کدال سے حجراسود پر حملہ کردیا1315 ھ میں ایک افغانی نے حجراسود کا کچھ حصہ توڑ لیا۔ اب یہ 30 سینٹی میڑ کا غیر منظم چمکدار سرخی مائل رنگ کا بیضوی پتھر ھے۔ جو چاندی کے مضبوط بیضوی حلقے ھے۔ اگرچہ زمانے کے بدلتے رنگوں میں طاغوتی و شیطانی قوتوں نے اللہ کی نشانی کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی لیکن 
بقول شاعر۔۔۔فانوس بن کر جسکی حفاظت خدا کرے ۔۔۔
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
احادیث میں ذکر
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا :
بلاشبہ حجر اسود اورمقام ابراھیم جنت کے یاقوتوں میں سے یاقوت ہيں اللہ تعالٰی نے ان کے نوراورروشنی کوختم کردیا ہے اگراللہ تعالٰی اس روشنی کوختم نہ کرتا تو مشرق ومغرب کا درمیانی حصہ روشن ہوجاتا ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 804 ) ۔ 1 - حجراسود اللہ تعالٰی نے زمین پرجنت سے اتارا ہے ۔
ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( حجراسود جنت سے نازل ہوا ) ۔
سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 ) سنن نسائ حدیث نمبر ( 2935 ) 
2 - حجراسود دودھ سے بھی زیادہ سفید تھا جسے اولاد آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیا ہے :
ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
( حجراسود جنت سے آیا تودودھ سے بھی زیادہ سفید تھا اوراسے بنو آدم کے گناہوں نے سیاہ کردیاہے ) ۔
سنن ترمذي حدیث نمبر ( 877 ) مسنداحمد حدیث نمبر ( 2792 )
حجر اسود کا استلام یہ ہے کہ اسے ہاتھ سے چھوا جاۓ ۔
3- نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حجراسود کا بوسہ لیا اورامت بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اسے چومتی ہے ۔
حضرت عمر رضي اللہ تعالٰی عنہ حجراسود کے پاس تشریف لاۓ اوراسے بوسہ دے کرکہنے لگے : مجھے یہ علم ہے کہ توایک پتھر ہے نہ تونفع دے سکتا اورنہ ہی نقصان پہنچا سکتا ہے ، اگرمیں نےنبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے چومتے ہوۓ نہ دیکھا ہوتا تومیں بھی تجھے نہ چومتا ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1250 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1720 ) ۔
ب - ابوطفیل رضي اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا کہ آپ بیت اللہ کا طواف کررہے تھے اورحجر اسود کا چھڑی کے ساتھ استلام کرکے چھڑی کوچومتے تھے ۔ صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1275 )
4 - اگر استلام سے بھی عاجز ہو تو اشارہ کرے اور اللہ اکبرکہے :
ابن عباس رضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اونٹ پرطواف کیا توجب بھی حجر اسود کے پاس آتے تواشارہ کرتے اوراللہ اکبر کہتے ۔ صحیح بخاری حدیث نمبر ( 4987 ) ۔
8 - حجراسود کوچھونا گناہوں کا کفارہ ہے :
ابن عمررضي اللہ تعالٰی عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے ۔ سنن ترمذی حدیث نمبر ( 959 ) امام ترمذی نے اسے حسن اورامام حاکم نے ( 1 / 664 ) صحیح قرار دیا اور امام ذھبی نے اس کی موافقت کی ہے ۔
اللہ پاک ہم سب کو حج اور عمرہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اس مقدس پتھر کا بوسہ لینا اور چومنا نصیب فرمائے آمین

                                                            آن لائن قرآن اینڈ بیسک اسلامک سنٹر
                                                         Skype id Ubaid322 Mob+92-322-2984599

Saturday, 11 October 2014

Online Quran Teaching



میں قرآن ہوں                                                              
  
                                                           
میں اللہ کا پاک کلام ہوں۔
میں محمدﷺ کے سینے اطہر پے نازل ہوا۔
میں لاریب کلام ہوں۔
میں بلندی سے اترا ہوں۔
میں مسلمانوں کے سینوں کو منور کرنے والا ہوں۔
میں انہیں پستیوں سے نکال کر بلندیوں تک پہچانے والا ہوں۔
میں خود بلند ہوں جس سینے میں جاتا ہو ں اسے بھی بلند کر دیتا ہوں۔
میں جس گھر میں پڑھا جاتا ہوں اسے بھی روشن کر دیتا ہوں۔
میں سکون دیتا ہوں میں اطمنان بخشتا ہوں میں شفا بھی ہوں۔
میں جہنم سے بچا کر جنت والا راستہ بتاتا ہوں،میں شیطان سے بچا کر رحمٰن سے جوڑ دیتا ہوں۔
میں صداقت کا درس دیتا ہوں اگر شک ہو تو صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو دیکھ لو۔
میں عدل کا داعی ہوں اگر شک ہو تو فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو پڑھ لو۔
میں سخاوت کاطریقہ بتاتا ہوں اگریقین نہیں تو ذوالنوریں ،غنی رضی اللہ عنہ  سے پوچھ لو۔
میں شجاعت اور بہادر بناتا ہوں اگریقین نہیں تو شیرِخدا خیدر رضی اللہ عنہ کو دیکھ لو۔
میں اللہ سے جوڑتا ہوں میں معافی مانگنے کا طریقہ بتاتا ہوں،خوشیاں دیتا ہوں غم دور کردیتا ہوں۔
میں گناہوں کی دلدل میں پھنسے آدمی کے لئے نوید سحر ہوں میں تاریکیوں میں روشنی ہوں۔
میں رزق میں برکت دیتا ہوں، میں قبر کا ساتھی ہوں ،میں آخرت میں سفارشی بھی ہوں۔
میں ہر اس بندے کےلئے امید ہوں جو ناامید ہے،میں نا امیدی کی دوا ہوں مغفرت کی راہ بتاتا ہوں۔
میں اٹک اٹک کر پڑھنے والے کےلئے دھرا اجر ہوں، 
اے غافل  !!!!!
اے ناداں!!!!
اے بندے آ آ اور مجھے تھام لے مجھے سینے سے لگا لے میں تیرے دن رات روشن کر دوں گا میں تجھے غموں سے دور 
کر لوں گا ،میں تجھے اللہ کا محبوب بنا لوں گا،
اے غافل !!!!
تو نے اپنی اولاد کو سب کچھ سکھایا لیکن میرے لئے ٹائم نا ملا  جان لے تجھے کچھ نا ملا تو خسارے میں رہا۔
میں تیرے مرنے کے بعد تیرے ثواب کا ذریعہ مگر تو شک میں پڑا رہا ،میں تیری دنیا روشن کرنے والا  
اے غافل !!!!
مجھے تھامنے والوں مجھے پڑھنے والوں مجھے عام کرنے والوں مجھے سکھانے والوں اور مجھے پڑھانے والوں کو تو پکڑ
لیتا ان سے محبت کرتا ان کی خبر گیری کرتا ان کے لئے دعا کرتا ان کا اکرام کرتا ان کی عزت کرتا  تو یاد رکھ 
میں وہ کلام ہوں مجھے اتارنے والے رب کی قسم تیری دنیا بدل جاتی تیری آخرت سنور جاتی تیری قبر روشن 
ہو جاتی کیونکہ میں قرآن ہوں میں اللہ کا کلام ہوں۔

Friday, 3 October 2014

Onlie Quran Academy


ایڈوانس میں تمام مسلمانوں کو عید مبارک ہو۔
اللہ پاک تمام مسلمانوں کی قربانی اپنے دربار میں قبول فرمائے اور تمام مسلمان جو اس سال حج کی ادائیگی کے لئے گئے ہیں ان کا حج قبول فرمائے اور ان کےلئے تمام مناسکِ حج اسان فرمائے اور ان کا آنا جانا آسان فرمائے آمین

Wednesday, 1 October 2014

Online Quran classes


                                          اللہ پاک اس سال حج پے جانے والے تمام مسلمانوں کے لئے آسانی پیدا فرمائے اور ان کا حج قبول فرمائے
                                                اور بخیریت اپنے اپنے مقامات پے پہنچائے اور سب مسلمانوں کی قربانی قبول فرمائے آمین ۔